ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بیندور کے قریب ناگور میں جامع مسجد کے صحن میں شرپسندوں نے پھینکے خنزیر کے اجزاء۔منظر سی سی کیمرے میں قید۔ پولیس میں شکایت درج

بیندور کے قریب ناگور میں جامع مسجد کے صحن میں شرپسندوں نے پھینکے خنزیر کے اجزاء۔منظر سی سی کیمرے میں قید۔ پولیس میں شکایت درج

Tue, 15 Jan 2019 20:53:47    S.O. News Service

بیندور 15؍جنوری (ایس او نیوز) اڈپی ضلع کے بیندور کے قریب  ناگور شہر کی نور جامع مسجد کے صحن میں رات کے وقت شرپسندوں کے ذریعے  خنزیر کے کٹے ہوئے کان اور پاؤں  پھینک کر فرار ہونے کی واردات پیش آئی ہے، جس پر عوام نے پولس پر زور دیا ہے کہ وہ پرامن ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔

مسجد کے ایک ذمہ دار جناب عُبیداللہ صاحب نے بتایا کہ ناگور میں ہمیشہ سبھی مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور بھائی چارگی کے ساتھ رہتے آرہے ہیں ، مگر پہلی بار اس طرح کی واردات پیش آئی ہے جس کے ذریعے  امن  وامان کی فضاء کو  بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صبح قریب 5:30 بجے  مسجد کے موذن  سلیم جب آذان دینے مسجد پہنچے تو پتہ چلا کہ مسجد کے کمپاونڈ میں  خنزیر کے کٹے ہوئے کان اور پاوں پڑے ہوئے ہیں، موذن نے فوری  مسجد انتظامیہ کے ذمہ داران  کو واقعے کی جانکاری دی، جس کے بعد پولس کو  خبر دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولس جائے وقوع پر پہنچی اور خنزیر کے اجزاء کو اُٹھا کر اپنے ساتھ لے گئی۔

انتظامیہ کمیٹی کے  ممبران نے جب سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھا تو پتہ چلا کہ   14جنوری کی رات میں 10:55منٹ پر دو بائک سوار وں کے ذریعے مسجد کے آنگن میں خنزیر کے اجزاء پھینکنے اور وہاں سے فرار ہوجانے کا منظر ریکارڈ ہوا ہے۔ جناب عُبیداللہ صاحب نے بتایا کہ  دو لوگ بائک پر آتے ہیں اور پھر خنزیر کے اجزاء پھینک کر بیندور کی طرف فرار ہوجاتے ہیں۔ عُبیداللہ کے مطابق دونوں لوگ اس علاقہ کے نہیں لگتے، کسی اور علاقہ سے آکر یہ واردات انجام دے کر فرار ہوئے ہیں۔  

مسجد کمیٹی کی طر ف سے پولس کو  دی گئی  شکایت میں کہا گیا ہے کہ شرپسندوں نے یہ کارروائی ناگور کا پرامن ماحول بگاڑنے اور فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی نیت سے کی ہے۔ اس سے ہمارے مقدس مقام کی توہین ہوئی ہے اور جذبات مجروح ہوئے ہیں۔اس لئے سی سی ٹی وی  کیمرے کے فوٹیج میں موجود اس منظر کی بنیاد پر قصورواروں اور ان کی پشت پناہی کرنے والی طاقتوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔اور شہر کے امن وامان کو بحال رکھنے کے لئے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

پولس نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو حاصل کرتے ہوئے اپنی چھان بین شروع کردی ہے۔ واقعے کے بعد ناگور کے ساتھ ساتھ  گنگولی اور دیگر حساس علاقوں میں بھی پولس کی زائد فورس تعینات کردی گئی ہے۔ پولس نے مسجد کمیٹی کے ذ مہ داران کو یقین دلایا ہے کہ وہ واقعے  کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قصورواروں کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔

خیال رہے کہ ناگور میں مسلمانوں کے قریب 120 مکانات ہیں۔


Share: